جنت کی بنیاد ایمان ہے عمل نہیں
*جب جنت ایمان اور عقیدے کی بنیاد پر ملے گی تو عمل کی کیا ضرورت ؟؟؟؟*
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے
اسلام میں عمل کی جانب راغب کیا گیا
عمل کی بنیاد پر انسان کے ظاہری عادات و اطوار سنورتے ہیں
اس کے باطن میں بھی نکھار پیدا ہوتا ہے
اس حد تک بات درست ہے
لیکن جیسا کہ
ڈاکٹر اقبال کا شعر ہے
*عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی*
*یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے*
کیونکہ اس شعر کے مطابق اعمال کو مدار نجات بتایا گیا ہے
ج
جبکہ اعمال مدار نجات
نہیں ہیں
کیونکہ قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی اعمال کی درستی اور اس کی طرف رغبت دلائی گئی ہے اس سے پہلے ایمان کا ذکر کیا گیا ہے
جیسے
یاایھاالذین آمنوا اتقواالله و کونوا مع الصٰدقین
اے ایمان والو
الله سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ
اس آیت میں بھی پہلے ایمان کا ذکر ہے اس کے بعد عمل
یعنی الله کا تقوی اور سچوں کے ساتھ ہونا
پورے قرآن کا مطالعہ اور تلاوت کرلیں
ہر جگہ پہلے ایمان کا ذکر ہے پھر اعمال کا
یعنی ایمان اصل بنیاد ہے اعمال اس کی عمارت
یا ایمان جڑ ہے اور اعمال اس کے پھل یا شاخ پتیاں
جب تک ایمان نہ ہو گا عمل کام نہیں دے گا
پھر اعمال کیوں ؟
کیا اعمال ہی کی وجہ سے جنت اور جہنم کا فیصلہ ہوگا ؟
اعمال مدار نجات نہیں ہیں
بلکہ اعمال اس راستے کی طرف نشاندہی کرنے والے ہیں جس طرف جنت اور جہنم ہیں
جنت اور جہنم تو ایمان اور عقیدے کی بنیاد پر ملے گی
اس پر سرکاردوعالم صلی الله علیہ وسلم کی یہ حدیث شاہد عدل ہے
من قال لااله الاالله فقد دخل الجنۃ
جس نے کلمہ پڑھ لیا وہ جنتی ہو گیا
یعنی جو دنیا سے ایمان کی سلامتی کے ساتھ گیا وہ جنت میں ضرور جائے گا
اعمال کی خرابی کی وجہ سے اگر اسے جہنم میں ڈالا بھی گیا تو وہ اپنے ایمان کی وجہ سے جہنم سے نکال کر جنت میں ضرور بھیجا جائے گا
کیونکہ جنت مومن کیلئے ہمیشگی کا گھر ہے
اور جہنم کافروں کیلئے ہمیشگی کا گھر ہے
کوئی کافر و مشرک کتنے ہی نیک اعمال کیوں نہ کر ڈالے
وہ کبھی جنت میں نہیں جا سکتا
کیوں کہ اعمال مدار نجات نہیں ہیں
بلکہ ایمان مدار نجات ہیں
یہی وجہ ہے کہ ایمان کو سب سے عظیم نعمت اور سب سے بڑی دولت کہا گیا ہے
شیطان سب سے بڑا عمل کرنے والا تھا
چھ کروڑ برس تک اس نے الله کو سجدے کئے ہیں
اس سے بڑا عمل کرنے والا کون ہو سکتا ہے
لیکن وہ جنتی نہیں بلکہ جہنمی ہے کیونکہ وہ ایمان والا نہیں ہے
بلعم باعور بنی اسرائیل کا ایک بڑا متقی پرہیز گار عمل کرنے والا گزرا ہے
وہ اتنا بڑا عمل کرنے والا تھا کہ مستجاب الدعوات تھا
جس کیلئے جو دعا کر دے فوراً مقبول ہوتی تھی
لیکن آخر وقت میں پیغمبر وقت کی شان میں گستاخی کی
ایمان چلا گیا
جہنمی ہو گیا
اعمال اکارت ہو گئے
ایمان نہیں تو ہر عمل مردود ہو جاتا ہے
ایمان ہی مدار نجات ہے اعمال نہیں
کسی جنگ کے وقت ایک اعرابی آئے وہ پہلے کافر تھے
آتے ہی سرکار کا کلمہ پڑھا مسلمان ہوئے تلوار سنبھالی میدان جنگ میں گئے
کافروں سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے
سوائے کلمہ اور ایمان کے ان کا نامہ اعمال بالکل کورا تھا
لیکن وہ جنتی ہوگئے
وہ جنتی کیوں ہوئے
اعمال کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے ایمان کی وجہ سے
ایسی بہت ساری مثالیں ہیں
*جنت*
روز محشر صرف اور صرف الله کے فضل سے ملے گی
اور ایمان والوں کو ملے گی
چاہے دل میں رائی کے برابر ایمان ہو
کوئی بے ایمان اور کافر اپنے اعمال کی وجہ سے جنت میں ہرگز نہیں جاسکتا
جنت میں صرف اور صرف ایمان والے جائیں گے الله کے فضل اور اس کی رأفت و رحمت سے جائیں گے
اگر کسی کا یہ دعوی ہو کہ کوئی اپنے اعمال کی وجہ سے جنت میں جائے گا تو وہ صرف ایک ثبوت دے کہ قرآن میں فلاں جگہ اعمال کا ذکر ہے اور ایمان کا نہیں
جہاں کہیں بھی اعمال کا ذکر ہے اس سے پہلے ایمان کا ذکر کیا گیا ہے
بخاری شریف کی پہلی حدیث بھی اس بات کی دلیل ہے کہ
انماالا عمال بالنیات
اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے
یہ نیت کیا چیز ہے یہی تو ایمان کا حصہ ہے
اگر محض رضائے الہی اور ثواب پانے کی نیت سے عمل کیا ہے تو وہ عمل الله کو محبوب ہے
ورنہ اس کا عمل جس نیت سے کیا ہے اسے وہی دیا جائے گا
نام و نمود یا دنیاوی اغراض و مقاصد
اس کے لئے الله کے یہاں کوئی اجر نہیں
یعنی نیک عمل بھی نیت اور ایمان درست نہ ہونے کی وجہ سے اکارت
کام کیا آیا
نیت صالح اور ایمان
پھر اعمال کیوں ؟
نیک اعمال صرف اس لئے کہ ایمان درست رہے
دنیا دارالاسباب ہے
ایمان کو بچانے اور درست رکھنے کیلئے نیک اعمال کام آتے ہیں
اگر ایمان سلامت رہے گا تو نیک اعمال بھی فائدہ مند اور سودمند ہونگے
انسان اگر نیک عمل کرتا رہے گا تو اگر شیطان کے بہکاوے کی وجہ سے ایمان ڈگمگانے کی ڈگر پر بچ سکتا ہے
نیکی اور درست اعمال ایمان کی حالت میں روز محشر سرخرو کرائیں گے
روز محشر ایک شخص سے الله پاک ارشاد فرمائے گا کہ اس کو میرے فضل سے جنت دی جائے
وہ الله پاک کی بارگاہ میں عرض کرے گا کہ میں نے دنیا میں صرف تیری فرماں برداری کی ہے
میری زندگی کا کوئی عمل تیرے احکام کے خلاف نہیں ہے
لہذا میں صرف جنت کا مستحق ہوں
مجھے میرے اعمال کے بدلے جنت عطا فرما
الله پاک اس کے تمام اعمال کو مردود قرار دے کر جہنم میں ڈال دے گا
اعمال کام نہ آئے
میدان محشر میں بھی ایمان ڈگمگایا تو اعمال اکارت کر دئے جائیں گے
یہ قصۂ لطیف ابھی ناتمام ہے
جو کچھ بیاں ہوا ہے یہ آغاز باب ہے
Comments
Post a Comment